آخر سعودیہ عرب پاکستان سے چاھتا کیا ہیے۔جانیے

آخر سعودیہ عرب پاکستان سے چاھتا کیا ہیے۔پاکستان سے اتنی ناراضگی کیوں ہیے۔کون صحیح کون غلط جانیے۔

سعودیہ عرب سے ہماری عقیدت اور محبت اس لیے ہیے کیونکہ وہاں مکہ مکرمہ جو کہ اللّٰہ تبارک وتعالیٰ کا گھر ہیے اور ہماری نجات کا ذریعہ ہیے۔اور دوسرا مدینہ منورہ ہیے جو کہ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا شہر ہیے۔اس وجہ سے پاکستان سمیت دنیا بھر کے مسلمان سعودیہ سے محبت کرتے ہیں۔
مگر سعودیہ عرب کی حکومت ہمیشہ اس بات کا فائدہ اٹھاتی ہیے اور پاکستان کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔جب عمران خان کی حکومت آئی تو اس وقت پاکستان کا خزانہ خالی تھا تو سعودی کراؤن پرنس محمد بن سلمان نے پاکستان کو تین فیصد سود پر 1ارب ڈالر کا قرض دیا اور ادھار پر تیل بھی دیا۔یہ سب کرنے کے بعد آب سعودی عرب ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہا ہیے۔اور نہ ماننے پر آنکھیں دکھاتا ہیے۔پاکستان نے پہلی بار او۔ائی۔سی پر زور دیا ہیے کہ کشمیر کے معاملے میں آواز اٹھائے۔بس سعودیہ عرب کی شان میں گستاخی ہو گئی اور اس نے اپنی شرائط رکھ دیں۔
  1.  ایران سے تمام تعلقات ختم کر دیے جائیں۔اورایران سے تیل کی سپلائی اور گیس معاہدہ ختم کیا جائے
  2. پاکستان ترکی کے ساتھ تمام تعلقات ختم کر دے۔کیونکہ سعودیہ نے مکہ اور مدینہ خلافتِ عثمانیہ کے دور میں لیا تھا اور آگے جا کر ترکی یہ مطالبہ کر سکتا ہیے کہ اسے دوبارہ مکہ مدینہ کی خدمت کا موقع دیا جائے۔تو اس وقت پاکستان کا ساتھ ترکی کے لیے فایدہ مند ہو گا۔اور یہ سعودیہ سے برداشت نہیں ہو رہا۔
  3. پاکستان چائینہ کا ساتھ چھوڑ دے اور امریکی بلاگ میں شامل ہو جائے۔چین پاکستان کا سچا دوست ہیے۔جب محمد بن سلمان نے پاکستان سے ایک ارب ڈالر مانگا تو چائینہ نے فوری طور پر ایک ارب ڈالر سعودی کے حوالے کر دیئے ۔کیونکہ چائینہ ہمارہ سچا دوست ہیے۔اور یہ بات امریکی چمچے محمدبن سلمان کو کھٹکتی ہیے
  4. سعودیہ کی آخری شرط یہ ہیے کہ پاکستان CPEC معاہدہ ختم کر دے اور مکمل طور پر چائینہ سے بائیکاٹ کر کے امریکن بلاگ میں شامل ہو جائے۔
  5. اگر پاکستان یہ سب کچھ مان لیتا ہیے تو پاکستان کبھی بھی آگے نہیں بڑھ پائے گا اس لیے آب پاکستان نے اپنا راستہ چن لیا ہیے۔اور اپنا الگ اسلامی بلاگ بنانے کی سوچ رہا ہیے۔جس میں ایران،ترکی،ملائشیا اور چائینہ پاکستان کی مدد کر رہیے ہیں۔اور انشاء اللہ تعالیٰ پاکستان ضرور ترقی کرے گا۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے